ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اُڈپی مٹھ میں افطار پارٹی معاملہ؛ ہندو تنظیموں کے احتجاج کے ردعمل میں پیجاور سوامی نے کہا:"یہ نفرت کی انتہا ہوگئی!"

اُڈپی مٹھ میں افطار پارٹی معاملہ؛ ہندو تنظیموں کے احتجاج کے ردعمل میں پیجاور سوامی نے کہا:"یہ نفرت کی انتہا ہوگئی!"

Sun, 02 Jul 2017 21:58:53    S.O. News Service

اڈپی 2؍جولائی (ایس او نیوز) منگلورو کے لال باغ اور اڈپی کے کلاک ٹاور سمیت بھٹکل میں ہندتو وادی تنظیموں نے مسلمانوں کو افطار کی دعوت دینے کے لئے پیجاور مٹھ کے وشواتیرتھ سوامی کے خلاف جو احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اس کے جواب میں سوامی جی نے ان تنظیموں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ سری رام سینا اور اس جیسی تنظیموں کو ہندودھرم اور اس کی مقدس تعلیمات کے بارے میں کچھ بھی معلومات نہیں ہے، جبکہ وہ لوگ ہندتوا کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کیا کرتے ہیں۔ اور اس طرح کی مخالفت اور احتجاج نفرت کی انتہا ظاہر کرتی ہے۔

اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سوامی جی نے کہا جن لوگوں کو دھرم کی حقیقی تعلیم اور روایات کی آگاہی نہیں ہے ، انہیں میری مخالفت کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔انہوں نے سخت برہمی اظہار کرتے ہوئے پوچھاکہ "آخر اس طرح کے احتجاج کا کوئی مطلب بھی ہے؟بلکہ یہ تو نفرت کی انتہا ہوگئی ہے۔ کسی کو بھی اس حد تک کسی دوسرے کے خلاف نفرت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔یہ تو حد ہوگئی۔"

ہندو جن جاگرن سمیتی کی طرف سے کرشنا مٹھ کا احاطہ نماز کی ادائیگی سے ناپاک ہونے پر اسے گائے کے پیشاب اور گوبرسے پاک کرنے کا جو مطالبہ  کیا گیا ہے اس پر بولتے ہوئے پیجاور سوامی نے پوچھا کہ" آخر نماز پڑھنے سے وہ احاطہ کیسے ناپاک ہوگیا؟ نماز اسلام کی رو سے ایک عبادت ہے۔اس سے مندر کو کیا نقصان پہنچایا گیا ہے؟کونسے دھرم شاستر ( مذہبی کتاب) میں اسے غلط بتایا گیا ہے ؟"

انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ" مجھے ان لوگوں کے احتجاج کی کوئی پروانہیں ہے ۔ میں اسے سنجیدگی سے لینے والا نہیں ہوں۔یہ جو نام نہاد ہندتوووادی تنظیمیں ہیں ان کے پاس کوئی دوسرا موضوع نہیں ہے اس لئے انہوں نے یہ تنازعہ کھڑ اکیا ہے۔"

پرمود متالک کے اس بیان پر کہ ہندو دھرم کے تحفظ کے لئے اس کی تنظیم (سری رام سینا) خون خرابے کے لئے بھی تیار ہے، سوامی جی نے کہا کہ میں اس کی باتوں پر کبھی بھی دھیان نہیں دیتا۔ ردعمل میں اب کچھ بول کر میں اسے تشدد پر اکسانا نہیں چاہتا۔میں اپنا موقف پھر سے بالکل صاف کرنا چاہتا ہوں کہ نہ میں نے دھرم کی خلاف ورزی کی ہے اور نہ ہی ہندوسماج کی تذلیل کی ہے۔درحقیقت اس گیٹ ٹو گیدرکے بعد ہندومذہب کا وقار اور زیادہ بڑھ گیا ہے۔

سوامی جی مزید کہا کہ" میں نے افطار کی دعوت نہیں دی تھی بلکہ مسلمانوں کو شام کے کھانے پر بلایا تھا۔ یہ ایک آپسی میل ملاپ کا موقع تھا۔ہم ہندو "سندھیا وندنا"(شام کی عبادت) کے بعد کھانا کھاتے ہیں ، مسلمانوں نے مغرب کی نماز کے بعد کھانا کھایا۔ اب اس سے کسی کے جذبات مجروح ہونے یا مایوس ہونے کی بات کہاں سے آگئی۔بلکہ اس سے توہر ایک کو خوش ہونا چاہیے۔ ہر کسی کو اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہے۔ ہمیں ان کے اعمال اور روایات کا احترام کرنا چاہیے۔ "

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا آئندہ بھی و ہ اس طرح کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی والے پروگرام کرتے رہیں گے ، انہوں نے جواب دیا کہ ہم حالات کا جائزہ لینے کے بعد اس کافیصلہ کریں گے۔ میں ہندو ؤں کے علاوہ مسلمانوں کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات ہمیشہ بنائے رکھوں گا۔میرا مقصددیگر قوموں کے ساتھ مذہبی ہم آہنگی ہمیشہ بنائے رکھنا ہے اور وہ میں کرتا رہوں گا۔


Share: